ابنا: غلامی کے نئے طریقوں سے متعلق بین الاقوامی ادارے کا کہنا ہے کہ دنيا بھر ميں تقريبا تین کروڑ افراد بردگی اور غلامی کی زندگی بسر کررہے ہيں۔ پريس ٹي وي کی رپورٹ کے مطابق بين الاقوامي فاؤنڈيشن واک فري نے جمعرات کو اپني رپورٹ ميں کہا ہے کہ ایسے افراد کو سرحدوں پر اسمگل کيا جاتا ہے اور پھر ان کا سراغ فحاشي کے اڈوں پر ملتا ہے جہاں ان سے جبري طور پر فحاشي کا کام ليا جاتا ہے يا پھر يہ لوگ غلام بنالئےجاتے ہيں -اس رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ ان ميں سے آدھے لوگ ہندوستان ميں ہيں اور ہندوستان کے بعد موريطانيہ ميں ہيں جہاں اس ملک کي کل آبادي کا چار فيصد حصہ غلامي کي زندگي بسرکرتا ہے -اس کے علاوہ گامبيا ، گيبن ، ايوري کوسٹ ، ہيٹي اور نيپال ميں بھي جديد بردگي کا رواج سب سے زيادہ ہے- ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
16 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 473253
غلامی کے نئے طریقوں سے متعلق بین الاقوامی ادارے کا کہنا ہے کہ دنيا بھر ميں تقريبا تین کروڑ افراد بردگی اور غلامی کی زندگی بسر کررہے ہيں۔